’’اس کو دیکھیے! مر گیا ہے… اور چل رہا ہے۔‘‘
حالیہ دنوں میں امِت مرانڈی مذاق کا موضوع بنے ہوئے ہیں، اور آج کا دن بھی ان کے لیے الگ نہیں ہے۔ وہ اُس مچان (بانس سے بنے تختے) کی جانب بڑھ رہے ہیں، جہاں آدھا درجن گاؤں والے موجود ہیں اور ان کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔
یہ ۳۲ سالہ سنتھال آدیواسی بھی مذاق میں شریک ہو جاتے ہیں، لیکن جلد ہی ان کا لہجہ بدل جاتا ہے۔ ’’دیکھ لِیجیے، ہم زندہ ہیں لیکن ہم کو مار دیا گیا،‘‘ یہ کہتے ہوئے ان کے چہرے کا کرب نمایاں ہو جاتا ہے۔
یومیہ اجرت پر کام کرنے والا بہار کے لوہ سنگھنا گاؤں کا یہ مزدور فوت شدہ ووٹروں کی حالیہ فہرست میں شامل اپنے نام کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ یہ بدنام فہرست ووٹروں کے ناموں کی خصوصی جامع نظر ثانی (ایس آئی آر) کے دوران تیار گئی تھی۔ یہ کارروائی الیکشن کمیشن نے ریاست میں انتخابی فہرستوں (الیکٹورل رول) سے نا اہل ووٹروں کو نکالنے کے لیے کی تھی۔ لیکن یہاں لوآ ٹولہ میں بہت سے اہل آدیواسی ووٹروں کو ’مردہ‘ قرار دے کر ان کے نام کاٹ دیے گئے ہیں۔ مقامی ذرائع کو میں نے فون کر کے آگاہ کیا تھا کہ امِت کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے۔
یہ جان کر کہ ان کا نام حذف شدہ ووٹروں کی فہرست میں شامل ہے، انہیں برا لگتا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’برا تو لگتا ہے نا۔‘‘
دوپہر کے تقریباً ۱۲ بجے ہیں اور میں ایک آدیواسی بستی لوآ ٹولہ میں بوتھ نمبر ۲۲۳ کے حذف شدہ ووٹروں کی فہرست کے ساتھ موجود ہوں۔ حذف شدہ ووٹروں کی فہرست کے لیے الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کی بے ترتیب جانچ کے دوران میں لوہ سنگھنا گاؤں کے بوتھ نمبر ۲۲۳ تک پہنچا تھا، جہاں بہت سے آدیواسیوں کے نام کاٹ دیے گئے تھے۔
لوآ ٹولہ ایک سنتھال آدیواسی بستی ہے، جس کا نام ایک درخت سے مستعار لیا گیا ہے۔ ’دومر‘ یا گولر (کلسٹر فِگ) کے درخت کو سنتھالی میں ’لوآ‘ کہا جاتا ہے۔ سنتھالی ایک آسٹرو ایشیائی زبان ہے، جسے ہندوستان میں تقریباً ۷۴ لاکھ لوگ بولتے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی بستی یا ٹولہ میں ایک زمانے میں گولر کا ایک بڑا درخت ہوا کرتا تھا، جو اس سنتھالی بستی کی پہچان بن گیا۔ یہاں بڑے پیمانے پر مٹی اور پھوس کے مکانات تھے۔ سال ۲۰۲۲-۲۰۲۳ کے بہار ذات سروے کے مطابق، زیادہ تر سنتھالی لوگوں کی اوسط آمدنی تقریباً ۶۰۰۰ روپے یا اس سے کم ہے۔ پانچ میں سے ایک سنتھال آدیواسی چھوٹے یا بٹائی دار کسان کے طور پر زراعت کے پیشہ سے وابستہ ہے۔ باقی امِت کی طرح مزدوری کرتے ہیں۔ امِت پٹنہ میں بطور ڈرائیور کام کرتے ہیں۔





















