جھونوں بڑے مزے سے تاڑ کے پتّے چبا رہی ہے۔ یہ پتّے اس گھریلو بکری کے کھانے کا حصہ نہیں ہیں، لیکن چارہ کی شکل میں ان کا وقتاً فوقتاً مل جانا اس کے لیے کسی دعوت سے کم نہیں ہے۔
اس چھوٹے پالتو جانور کا یہ چارہ کلیانی پاترا کے لیے تھوڑی تشویش کی بات ہے، جنہوں نے پرانے شوق کی وجہ سے ایک ہیٹ پہن رکھا ہے۔ یہ تجربہ کار کاریگر اپنی بکری کے سر کو آہستہ سے سہلاتے ہوئے اسے اپنے تھوڑے سے بچے خام مال کو کھانے سے روکنے کی کوشش کرتی ہیں۔
شکر ہے کہ پالمیرہ تاڑ [بوراسس فلیبے لیفر] ایک لمبا درخت ہے، جس کی اونچائی ۳۰ میٹر تک ہوتی ہے۔ ’’اس تاڑ کے پتّے کو حاصل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ یہ بنگال میں پائے جانے والے سب سے اونچے درختوں میں سے ایک ہے۔ ان درختوں کی یہاں کوئی کمی نہیں ہے، لیکن ان پر چڑھنے کا ہنر اب نایاب ہو چکا ہے،‘‘ ۵۰ سالہ کلیانی بتاتی ہیں۔
ان کی پڑوسن چھایا پرمانک جو خود بھی اس ہنر میں کامل ہیں، ان کی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’پہلے گھر کے مرد پتّے لانے کا کام کرتے تھے، لیکن اب نوجوان لڑکے تاڑ پر چڑھنے کا ہنر نہیں جانتے ہیں۔‘‘ پھر چھایا فسلفیانہ انداز میں کہتی ہیں، ’’اب کس کے پاس درختوں پر چڑھنے کا وقت ہے؟‘‘
کلیانی اور چھایا کا تعلق اکھوڑی ڈوم برادری سے ہے، جو گزشتہ کئی نسلوں سے ان پتّوں کا کام کرتے رہے ہیں۔ ’’ہمارے آس پاس کا علاقہ تاڑ کے پتوں اور بانس کے کاموں کے لیے مشہور ہے،‘‘ کام میں مصروف کلیانی کہتی ہیں۔ ’’کچھ عرصہ قبل جب ہماری برادری میں شادی ہوتی تھی، تو بانس کے کاموں کا ہنر جاننا لڑکی اور لڑکا دونوں کے لیے ایک بڑی خوبی مانی جاتی تھی۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ اب یہ کام بنیادی طور پر ڈوم برادری (ریاست میں جسے درج فہرست ذات کا درجہ حاصل ہے) تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ وہ ان پتّوں اور بانسوں کی ٹوپی، ہاتھ والے پنکھے اور دوسری چیزیں بناتی ہیں۔


























